23 ستمبر 2013 - 20:30
دہشت گردوں نے ترکی کے کیمیاوی ہتھیاروں سے اسد فورسز کا قتل عام کیا

ایک ترک اخبار نویس نے کہا کہ دہشت گردوں نے ترکی کے ارسال کردہ کیمیاوی ہتھیاروں سے شامی افواج کا قتل عام کیا/ ترک اٹارنی جنرل نے بھی امکان ظاہر کیا ہے کہ یہ ہتھیار ترکی سے شام بھجوائے گئے ہیں۔

اہل البیت(ع) نیوز ایحنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق ان دنوں یہ موضوع شدت سے زیر بحث ہے کہ شام میں کیمیاوی ہتھیار کس نے استعمال کئے ہیں؟ امریکہ اور ترکی سمیت تکفیری دہشتگردوں کے علاقائی حامی شام پر الزام لگا رہے ہیں تاہم ایک ترک اخبار نویس نے دل ہلانے والے انکشافات کرکے علاقے کے مبہم ماحول میں تہلکہ مچایا ہے۔ اس اخبار نویس کے انکشافات ترکی سے دہشت گردوں کے لئے بھجوائے گئے کیمیاوی ہتھیاروں کے بارے میں حقائق کو آشکار کرتے ہیں۔ترک اخبار "طرف" نے کیمیاوی ہتھیاروں کے شام سے ترکی بھجوا کر القاعدہ سے وابستہ دہشت گرد جماعتوں کے حوالے کرنے کی خبر نیز اس مسئلے میں پیش کردہ پٹیشن کی تفصیل اپنے پہلے صفحے پر نشر کی ہے۔فارس خبر ایجنسی کے نامہ نگار نے اس موضوع کی تفصیل جاننے کے لئے اس اخبار کے ایک رکن "فرات آلکاچ" سے بات چیت کی ہے۔ترک حکومت نے مئی میں سیرین گیس کے ملزمین کو رہا کردیا تھاآلکاچ نے ان گیار افراد کی گرفتاری کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ان افراد کو گذشتہ مہینوں ترکی میں گرفتار کیا گیا اور ان سے سیرین گیس برآمد کرلی۔ حکومت نے ان افراد کو سوائے ایک شامی کے، رہا کردیا۔ شامی باشندے کا نام ہیثم قصاب تھا۔ شام میں برسرپیکار افراد کا ترک اداروں سے تعلق ترک اخبار نویس نے کہا: قصاب اور اس کے ساتھیوں کے پاس دو کلوگرام سیرین گیس تھی لیکن ترک حکومت نے کہا کہ وہ سیرین گیس نہ تھی بلکہ اینٹی فریز مادہ تھا۔ اور پھر قصاب بھی رہا کردیا گیا۔سیرین گیس منتقل کرنے والوں کا ترک انٹیلجنس اداروں سے تعلق ہےآلکاچ نے کہا: حکومت کو یقینا ان حقائق سے آگاہ ہونا چاہئے۔ کیونکہ خفیہ ادارے ان افراد کی نگرانی کررہے تھے اور یہ افراد بڑي آسانی سے ترکی ـ شام سرحدوں پر نقل وحرکت کرتے تھے۔ اور دلچسپ امر یہ کہ ان افراد کے سلسلے ميں پیش کردہ پٹیشن پر جو فیصلہ ہوا ہے اس میں قرار دیا گیا ہے کہ ان افراد کا تعاقب نہ کیا جائے۔ ہماری اطلاعات کے مطابق یہ افراد ترک انٹیلجنس کے لئے کام کرتے ہیں۔ ان افراد نے کیمیاوی ہتھیار تیارکرنے کے لئے پورے ترکی سے ضروری مواد اکٹھا کرلیا ہے اور قصاب نے اس مواد کو شام پہنچاکر دہشت گردوں کے سپرد کیا ہے۔ پہلے 5 افراد جنہیں رہا کیا جاتا ہے، دہشت گردوں کو ہتھیار فراہم کرنے کے الزام میں مطلوب تھے اور ان پر مقدمہ چلایا جارہا تھا۔ لیکن انہیں اسی حال میں رہا کیا گیا اور رہائی کے بعد وہ جبہۃ النصرہ میں شامل ہوئے۔مذکورہ بالا اطلاعات کی اشاعت سے قبل سرکاری اخبار کی ایران اور روس کے خلاف تشہیر مہمآلکاچ نے کہا کہ ہمارے توسط سے اس خبر کی تفصیلات شائع ہونے سے ایک روز قبل انقرہ حکومت سے وابستہ ایک اخبار نے لکھا: "ایران، روس اور شام کی خفیہ ایجنسیاں سیرین گیس کے ترکی سے شام بھجوائے جانے کے بارے میں تشہیری مہم چلائیں گے"۔ یہ خبر ہم نے پڑھی تو حیرت زدہ ہوئے کیونکہ ہم اس رپورٹ کو شائع کرنے جارہے تھے۔ انھوں نے کہا: ترکی کی خفیہ ایجنسیاں ہمارے ٹیلی فون رابطوں کو کنٹرول کرتی ہیں اور ہمارے مکالمات چوری چھپکے سنتی ہیں اور حتی کہ ہمارے ایمیلز تک کو دیکھتے ہیں اسی بنا پر انہیں معلوم ہوچکا تھا کہ ہمارا منصوبہ کیا ہے اور پھر اس خبر کو اپنے منظور نظر اخبار تک پہنچایا۔ دہشت گردوں نے سیرین گیس کے ذریعے 200 شامی فوجیوں کا قتل عام کیا آلکاچ نے کہا: دہشت گردوں کو ترکی سے ضروری کیمیاوی مواد ملا تو انھوں نے دیسی طریقوں سے اس مواد پر مشتمل گولے تیار کئے اور شامی افواج سے جھڑپوں میں 200 سے زائد شامی سپاہیوں کا قتل عام کیا۔ یہ بات پٹیشن میں بھی موجود ہے اور ترک اٹارنی جنرل نے کہا ہے کہ ممکن ہے کہ یہ ان ہتھیاروں کی تیاری میں استعمال ہونے والا مواد ترکی سے شام بھجوایا گیا ہو۔  آلکاچ کے مطابق، اٹارنی جنرل نے پٹیشن میں ذکر کیا ہے جبہۃالنصرہ، القاعدہ اور دس دیگر نام نہاد اسلامی، سب دہشت گرد ٹولے ہیں جن میں چیچنیا، افغانسان اور یورپ سے آئے ہوئے لوگ شامل ہیں۔ آلکاچ نے کہا: میں نے القاعدہ سے وابستہ ایک شخص سے استنبول میں انٹرویو کیا تو اس نے کہا: ہماری ذمہ داری یہ ہے کہ ہم چیچنیا اور افغانستان سے ترکی آنے والے افراد کو شام کی سرحدوں پر پہنچائیں اور یہ افراد وہاں سے القاعدہ سے وابستہ جبہۃالنصرہ سے جا ملتے ہیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/٭۔٭

کیمیاوی ہتھیاروں کے تین اسمگلر ترکی میں گرفتار/ کیمیاوی وار ہیڈ برآمد

شام: القاعدہ سے وابستہ دہشت گردوں سے بات چیت ہرگز

شام کے کیمیاوی ہتھیار لبنان منتقل، مضحکہ خیز دعویٰ :سید حسن نصر اللہ

آذربائيجان کی تکفیری جماعت کا دہشتگرد سرغنہ شام میں ہلاک کردیا گيا

قطر نے شام میں تکفیری دہشت گردوں کو تین ارب ڈالر کی امداد فراہم کی